ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں لاؤڈاسپیکر کے استعمال کو لے کر رہنما ہدایات جاری، لاؤڈاسپیکروں کے استعمال کے لئے لینی ہوگی اجازت، فجر کی اذان پر سوالیہ نشان !

کرناٹک میں لاؤڈاسپیکر کے استعمال کو لے کر رہنما ہدایات جاری، لاؤڈاسپیکروں کے استعمال کے لئے لینی ہوگی اجازت، فجر کی اذان پر سوالیہ نشان !

Wed, 11 May 2022 13:39:02    S.O. News Service

بنگلورو، 11؍مئی (ایس او نیوز )  کرناٹک میں اذان بنام ہنومان چالیسا تنازع کے بعد ریاستی سرکار نے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو لے کر رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔  جس کے تحت لاؤڈاسپیکروں کے استعمال کے لئے اجازت حاصل کرنی ہوگی۔ ریاستی چیف سکریٹری روی کمار کی طرف سے جاری کئے گئے سرکاری نوٹ  میں کہا گیا ہے کہ ڈائرکٹر جنرل آف پولس، بنگلور کے پولس کمشنر، ریاست کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ، آلودگی کنٹرول بورڈ اور محکمہ اقلیت بہبود کے سکریٹریوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ کی میٹنگ میں یہ طئے  کیا گیا ہے کہ  13 اگست 2002 کو ریاستی  حکومت کی طرف سے جاری ضوابط اور اس کے علاوہ 18 جولائی 2005 اور 28 اکتوبر 2005 کو سپریم کورٹ کی طرف سے ان ضوابط کو نافذ کرنے کی جو ہدایت جاری کی گئی ہے اس پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ ان ہدایات کے مطابق  لاوڈ اسپیکروں  کو استعمال کرنے اجازت حاصل کرنی ہوگی، رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک کہیں بھی لاوڈ اسپیکروں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

جس طرح ریاست میں مسلم  طالبات کے حجاب کو لے کر چند طلبہ نے زعفرانی شال اوڑھ کر   کالج میں  آتے ہوئے تنازعہ شروع کیا تھا اور  حجاب پر پابندی عائد کرنے میں کامیاب ہوئے تھے، اُسی طرز پر سری رام سینا اور بعض ان جیسی مسلم مخالف تنظیموں نے مسجدوں سے دئے جانے والے اذاان کو لے کر اعلان کیا تھا کہ  وہ اذان دینے کے دوران مساجد کے باہر  مائک لگاکر ہنومان چالیسیا  اور بھجن کیرتن وغیرہ لگائیں گے ۔  ان کےاس اعلان کے نام پر  وزیر اعلی بسوراج بومائی نے پیر کو ایک میٹنگ بلائی، جس کے بعد  چیف سکریٹری نے  ہدایات جاری کیں  اور بالخصوص فجر کی اذان چونکہ صبح چھ بجے سے پہلے ہوتی ہے، اُس پر  سوالیہ نشان کھڑا کردیا۔

روی کمار کی طرف سے جاری کردہ ہدایات میں  کہا  گیا ہے کہ اسپیکروں کا استعمال صرف جس جگہ انہیں استعمال کیا جارہا ہے، اُن کے صحن تک محدود رکھا جانا ہوگا، جہاں جہاں لاوڈ اسپیکروں کا استعمال ہوتا ہے چاہے وہ مساجد ہوں یا مندر ہوں یا دیگر  مقامات، انہیں مقررہ حکام سے پندرہ دنوں کے اجازت لینی ہوگی، جو لوگ رضاکارانہ طور پر اجازت نہیں لیں گے حکام کی طرف سے ان کے صحن میں لگائے گئے لاوڈ اسپیکروں کو ہٹادیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ  مختلف سطحوں پر اس کے لئے کمیٹیاں قائم کی جائیں گی تاکہ  لاوڈ اسپیکروں کے استعمال کے لئے ملنے والی درخواستوں کو منظوری دی جاسکے۔شہروں کے وہ علاقے جہاں پولیس کمشنرس   ہیں  وہاں اسٹنٹ کمشنر آف پولیس، علاقے کی سٹی کارپوریشن کے ایگزی کیٹیو  انجینئر اور آلودگی کنٹرول بورڈ کے ایک نمائندے  کو اس کمیٹی میں شامل کیا جاۓ گا۔ دیگر تمام اضلاع میں یہ کمیٹی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، تحصیلدار اور آلودگی کنٹرول بورڈ کے ایک نمائندہ پر مشتمل ہوگی۔لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کر نے والے تمام افراد کو اس سرکاری حکم نامے پر عمل کرنا لازمی ہوگا اور اس کا اطلاق فوری طور پر کیا جاۓ گا ۔

بتایا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے اس اعلان کے بعد سری رام سینا کی طرف سے جاری ہنومان چالیسا پڑھنے کی تحریک واپس لینے کا اعلان کر دیا گیا ۔ اس سے قبل بنگلوروسمیت ریاست کے مختلف علاقوں میں اذان کے وقت ہنومان چالیسا پڑھنے کی کوشش کرنے والے سری رام سینا کے متعدد کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لیا ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق  سرسری رام سینا کے 10 سے زائد کارکنان کو جو مختلف مقامات پر ہنومان چالیسہ کا جاپ کر رہے تھے ، پولیس نے گرفتار کرلیا۔بنگلور کے اشوک نگر تھانے کی پولیس نے شری رام سینا کے کارکنوں کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ صبح 5 بجے شانتی نگر اسمبلی حلقہ کے دو یک نگر کے نزد یک ہنومان مندر میں مائک  کے ذریعہ ہنومان چالیسہ کا جاپ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس نے شری رام سینا کے کارکنوں کو روکنے کی کوشش کی تو دونوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی۔

واضح رہے کہ شری رام سینا کے بانی پر مودمتا لک نے ریاستی حکومت کو کرناٹک میں اذان دینے والے لاؤڈ اسپیکروں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے 9 مئی کی آخری تاریخ مقرر کی تھی۔ اس کے بعد ا پنی تحریک تیز کرنے کی وارننگ بھی دی تھی۔ لیکن جب ریاستی حکومت نے الٹی میٹم اور وارننگ کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں کی تو ہندوتنظیموں نے منگل صبح  کومندر میں ہنومان چالیسہ کا جاپ اور صبح بھجن گانے  کا منصوبہ بنایا تھا۔ رام سینا کے سکریٹری گنگادھر کلکرنی نے  بتایا کہ چہارشنبے کو  رام سینا کے سر براہ متالک کی قیادت میں ایک اہم میٹنگ ہونے جا رہی ہے جس میں 20 سے زائد ہندوتنظیموں کے رہنما شرکت کریں گے اس میٹنگ میں  آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔


Share: